Sirat ul Haq

روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنا کیسا ؟

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟ کیا سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟ (شرعی حکم)

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ عوام کے اندر جو یہ بات مشہور ہے کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے یا روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو یہ ان کی جہالت ہے۔

روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانے سے نہ روزہ مکروہ ہوتا ہے اور نہ ہی روزہ ٹوٹتا ہے بلکہ روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانا رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔ حضور علیہ السلام خود بھی آنکھوں میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔

روزے کی حالت میں سرمہ لگانے پر حدیث

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔

سنن ابن ماجه حدیث نمبر 1678

روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی اجازت

بلکہ سنن ترمذی شریف کے اندر حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی اجازت بھی عطا فرمائی ہے۔

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: میری آنکھ آ گئی ہے، کیا میں سرمہ لگا لوں، میں روزے سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (لگا لو)

سنن ترمذی حدیث نمبر 726

صحابہ کرام کا عمل

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی اس پر عمل تھا۔

عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔

سنن ابی داود حدیث نمبر 2378

تابعین کا عمل

صرف صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ تابعین کرام بھی روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے۔

اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» (ایک قسم کا سرمہ ہے) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔

سنن ابی داود حدیث نمبر 2379

بہار شریعت میں روزے میں سرمہ لگانے کا حکم

اس کے علاوہ بہار شریعت میں بھی اس مسئلے کو واضح کیا گیا ہے:

روزے کی حالت میں آنکھوں میں سُرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا، اگرچہ سُرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔

(جوہرہ، ردالمحتار)

بہار شریعت جلد 1 حصہ 5 صفحہ 988

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انکھوں میں روزے کی حالت میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے کیونکہ نبی پاک علیہ السلام نے خود اجازت بھی دی ہے اور حضور علیہ السلام نے خود انکھوں میں سرمہ بھی لگایا ہے صحابہ کرام بھی روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگاتے تھے اور تابعین بھی روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگاتے تھے لہذا روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا

واللہ اعلم ورسولہ اعلم

محمد شعیب رضا عطاری

 

2 thoughts on “روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنا کیسا ؟”

  1. Pingback: قرآن کریم کا تعارف اور اس کی خصوصیات - Sirat ul Haq

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top