
انسان اپنی زندگی گزارنے کے لیے مادی اور روحانی دونوں طرف کا محتاج ہے تو اللہ تعالی نے اس دنیا میں بھیجا اور زمین کو اس کے لیے فرش بنایا، آسمان کو چھت، دن کو روشنی اور رات کو آرام کا ذریعہ، پانی، ہوا، سورج، چاند، ستارے، سب کو اس کی خدمت میں لگا دیا۔ کچھ ضروریات مادی تھیں جیسے کھانا، پینا، لباس، رہائش،نفسانی خواہشات وغیرہ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حاصل کرنے کے ذرائع انسان کو عقل، بصیرت اور حواس کی صورت میں عطا کیے۔ لیکن انسان صرف مادی وجود نہیں رکھتا، اس کے اندر ایک لطیف جوہر بھی ہے جسے روح کہا جاتا ہے۔تو روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ضابطہ حیات بھی عطا فرمایا تاکہ روح بھی سکون اور اطمینان میں رہے۔روح کی غذا اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی عبادت اور سب سے بڑھ کر وہ کتابِ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے نازل فرمائی ،وہ عظیم کتاب قرآن کریم ہے۔ یہ کتاب نہ صرف قلب کو سکون دیتی ہے بلکہ انسان کی سوچ، فکر، عقیدہ، عمل، اخلاق، کردار، معاملات، اور زندگی کے ہر پہلو کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ کتاب براہِ راست خالقِ کائنات کا کلام ہے اور اس میں انسانیت کے لیے ہدایت کا ایک کامل و مکمل نظام موجود ہے۔
جہاں قرآن مجید میں غور و فکر کرنا،اور اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا ایک عبادت ہے وہیں اس واضح اور روشن کتاب کو پڑھنا بھی ایک عبادت ہے۔اس کے ایک ایک حرف پر اللہ تعالیٰ دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ: (الم) حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ۔))[1]
ترجمہ: “جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔”
یہ فضیلت صرف پڑھنے کی ہے، اور اگر غور و تدبر کے ساتھ تلاوت کی جائے، تو اس کی برکتیں بے شمار ہیں۔ایک اور حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو قرآن کی فضیلت اس مثال کے ذریعے سمجھائی:
((قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِمْ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ[2]))
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو وہاں اسے تین بڑی، موٹی اونٹنیاں ملیں؟” صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: “تو تم میں سے کوئی اگر نماز میں تین آیتیں پڑھ لے، تو وہ ان تین موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔”
اس طرح کے بے شمار ارشاداتِ نبوی ہمیں قرآن کی اہمیت، عظمت اور اس کی تلاوت کی فضیلت کو واضح کرتے ہیں۔ قرآن کے ساتھ تعلق جتنا گہرا ہو گا، زندگی اتنی ہی سنورتی چلی جائے گی۔ یہ کتاب قیامت کے دن شفاعت کرے گی، دلوں کو نور بخشے گی، انسان کے گناہوں کو مٹائے گی اور اسے اللہ کے قرب سے ہمکنار کرے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِه[3]ِ))
ترجمہ: “قرآن پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں شفاعت کرے گا۔”
یہ وہ عظیم کتاب ہے جو جتنا پڑھی جائے، اُتنا ہی انسان کے دل کو جِلا بخشتی ہے، آنکھوں کو اشک بار کرتی ہے، روح کو لطافت عطا کرتی ہے، اور قلب کو یقین اور سکون سے بھر دیتی ہے۔یہ کتاب روشنی ہے جو اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، وہ نسخہ ہے جو دلوں کی بیماریوں کا علاج ہے، وہ کلام ہے جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں شفاعت کرے گا۔ جو شخص قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے، وہ لوگوں میں سب سے بہتر انسان ہے، اور جو شخص قرآن کو یاد کرے، اس کے درجات جنت میں اسی کے حفظ کے مطابق بلند کیے جائیں گے۔ قرآن صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ یہ ایمان، اخلاق، عبادات، معاملات، اور انسان کی پوری زندگی کا جامع دستور ہے، اور جو شخص اس سے جتنا قریب ہوتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں اتنی ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ یہی قرآن ہے جو اہلِ ایمان کے لیے شفا ہے،اور جنت کا راستہ ہے۔
نزول قرآن کریم کا مقصد” ہدایت”
جب ہم اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے اور یہ انسان اپنی عقل کی بناء پر ہر شے کو اپنے تصرف میں لارہا ہے۔ یوں انسان اس کائنات کا بادشاہ اور شہنشاہ دکھائی دیتا ہے۔ اتنی زیادہ قوت و طاقت کی بناء پر اس کے پھسلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان سے بچانے کے لئے انسان کو باری تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن عطا کیا ہے اور بلاشبہ انسان اور قرآن اس کائنات کی دو مسلمہ حقیقتیں ہیں اور ان دونوں میں سے قرآن نے انسان کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ انسان کیا ہے؟اب انسان کے لئے سب زیادہ ضروری ہے کہ قرآن کو پڑھے، سمجھے اور بار بار اس میں غوروفکر کرے تاکہ وہ اپنی انسانیت کی حقیقت کو سمجھ جائے اور قرآن کے نزول سے لے کر اس کے مقصد نزول تک تمام چیزوں کو بخوبی جان لے اور دوسروں کو اس قرآن کی آفاقی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ کرے۔ انسان کو اللہ کی معرفت حاصل کرنے،اس کے احکامات کو سمجھنے،ان کے مطابق زندگی گزارنے،اور اللہ کا نیک اور برگزیدہ بندہ بننے کے لئے قرآن سے بہتر کوئی چیز راہنمائی نہیں دے سکتی۔ اب ہم قرآن ہی سے سمجھتے ہیں کہ یہ کب نازل ہوا؟
اس کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے؟
سورہ بقرہ میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍۢ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ﴾[4]
ترجمہ کنزالایمان:”رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں”.
اس آیت کریمہ ہے قرآن کے نزول کا مقصد ” هُدًی لِّلنَّاسِ” بیان کیا گیا ہے۔یعنی یہ قرآن تمام کائنات میں جتنی بھی انسانیت ہے۔سب کے لیے ہدایت ہے۔اس کو نازل ہی اس لیے کیا گیا کہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اس میں موجود احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور اللہ کا قرب حاصل کریں۔
حضرت علی سے روایت ہے ۔
کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا۔
میں نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا؟
آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی کتاب ، جس میں تمہارے اگلوں اور پچھلوں کی خبریں ہیں، اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں ، قرآن فیصلہ کُن ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔جو ظالم اسے چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اسے تباہ کردے گا اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رَسّی اور حکمت والا ذکر ہے ، وہ سیدھا رستہ ہے ، قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خواہشات بگڑتی نہیں ، دوسری زبانیں مل کر اسے مشکوک نہیں بناسکتیں ، جس سے علمابے پروا نہیں ہوتے ، جو زیادہ دُہرانے سے پرانا نہیں پڑتا ، جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے ، قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جِنّات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو اچھائی کی رہبری کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے ، جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے ، جس نے اس پر عمل کیا وہ ثواب پائے گا ، جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا وہ انصاف کرنے والاہوگا اور جو اس کی طرف بلائے تو ضرور وہ سیدھی راہ کی طرف بلایا گیا[5]۔
اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔کہ فتنوں سے بچنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے اللہ کی کتاب یعنی قرآن کریم ہے۔ آپ ﷺ نے قرآن کو صرف ایک کتاب نہیں ،بلکہ ایسا خزانہ قرار دیا جس میں پچھلی قوموں کی تاریخ، موجودہ حالات کے فیصلے، اور آنے والے زمانوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ یہ کوئی کہانی یا وقتی بات نہیں بلکہ ایسا مضبوط، سچا اور فیصلہ کن کلام ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کو چھوڑ کر زندگی گزارے گا یا اس کے علاوہ کہیں سے ہدایت لینے کی کوشش کرے گا تو وہ ضرور گمراہ ہو جائے گا، کیونکہ ہدایت صرف اسی میں ہے۔
اور ایک مقام پر قرآن کریم کے بارے میں رب تعالیٰ فرماتا ہے۔
﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحًۭا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِى مَا ٱلْكِتَٰبُ وَلَا ٱلْإِيمَـٰنُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَـٰهُ نُورًۭا نَّهْدِى بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ﴾[6]
ترجمہ کنزالایمان: “اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی ایک جانفزا چیز اپنے حکم سے اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اُسے نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں اور بےشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو”۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو “روح” اور “نور” قرار دیا ہے، جو انسان کے دل و دماغ اور اس کی زندگی کو زندہ اور روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب محض الفاظ یا عبارتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ رب کا وہ خاص پیغام ہے جو انسانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔
قرآن مجید کی اصل حیثیت یہی ہے کہ وہ ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ سچائی، انصاف اور مقصدِ حیات کی تلاش میں رہتا ہے، لیکن جب اسے واضح اور مکمل رہنمائی نہ ملے تو وہ راہوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی بھلائی کے لیے قرآن کو نازل فرمایا۔قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ہر اس شخص کو راستہ دکھاتی ہے جو دل سے سچائی کا طلبگار ہو۔ یہ کتاب کسی خاص قوم یا طبقے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک رہنما ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، اور وہ کون سے اصول ہیں جن پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔جب انسان قرآن کو غور سے پڑھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب براہِ راست اس سے بات کر رہی ہے۔ بعض آیات انسان کے دل کو ایسے چھوتی ہیں جیسے وہ اس کی اپنی کیفیت کا بیان ہوں۔ یہی قرآن کا اعجاز ہے ۔ کہ وہ ہر قاری کو اس کی اپنی زبانِ حال میں جواب دیتا ہے۔قرآن پاک صرف نظریاتی تعلیمات تک محدود نہیں، بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتا ہے۔ چاہے اخلاقیات ہوں، خاندان کا نظام ہو، معاشی انصاف ہو، یا معاشرتی رواداری قرآن ہر میدان میں ایک متوازن اور فطری اصول فراہم کرتا ہے۔
اہم بات
قرآن کی ہدایت صرف اُس وقت مؤثر ہوتی ہے جب اسے سمجھ کر اور دل سے قبول کیا جائے۔ صرف رسمی تلاوت یا ظاہری احترام کافی نہیں، بلکہ اس کتاب سے حقیقی فائدہ اُسی وقت ملتا ہے جب اسے عمل کا ذریعہ بنایا جائے۔نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ نے قرآن کو صرف پڑھا نہیں، بلکہ اس کے ہر حکم کو اپنی ذات میں نافذ کیا۔ آپ کا ہر قول، ہر عمل اور ہر فیصلہ قرآن کی تعلیمات کی جھلک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن سے سچائی پا کر دنیا کے بہترین انسان بنے۔آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں سنوریں، ہمارے معاشرے میں امن، عدل اور اخلاق قائم ہو، تو ہمیں پھر سے قرآن کو زندگی کا مرکز بنانا ہوگا۔ اسے سمجھنا، اس پر عمل کرنا، اور اس کو پھیلانا ہی اصل ہدایت ہے ،اور یہی قرآن کے نزول کا مقصد بھی ہے۔
[1] ترمذی،ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ،جامع ترمذی،کتاب فضائل القرآن عن رسول اللہ،باب ما جاء فیمن قرء حرفا من القرآن مالہ من اجر،رقم الحدیث2910
[2] قشیری،مسلم بن حجاج،صحيح مسلم،کتاب فضائل القرآن،باب فضل قراءۃ القرآن فی الصلاۃ وتعلمہ،رقم الحدیث1872
[3] ایضا،رقم الحدیث1874
[4] (بقرہ:2،185)
[5] ترمذی،ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ،جامع ترمذی،کتاب فضائل القرآن عن رسول اللہ،باب ما جاء فی فضل القرآن،رقم الحدیث2906
[6] (شوری:42،52)