Sirat ul Haq

قرآن کریم  کا تعارف اور اس کی خصوصیات

اس عظیم الشان کائنات کا وجود میں آنا اور اس میں موجود ہر چیز کا ایک منظم انداز میں چلنا،دن رات کا بدلنا،آسمانوں سے بارش کا برسنا،سورج اور چاند کا آنا جانا وغیرہ یہ محض ایک اتفاق نہی بلکہ ایک عظیم الشان ہستی کے وجود کا مظہر ہے اور اسی کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے۔

یہ کائنات، جس کی وسعتوں میں انسان حیرت زدہ ہے، اپنے ہر ذرّے سے خالقِ کائنات کی قدرت و عظمت کا پتہ دیتی ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ انسان کو ایک خاص مقصد کے تحت وجود بخشا کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اس کی عبادت کریے،اور اس کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق چلے۔اور اپنی زندگی کو اسی کے عطا کردہ ضابطہ حیات کے مطابق گزارے۔

لیکن انسان خود سے یہ سب کچھ نہیں جان سکتا تھا، اس لیے ضرورت تھی کہ کوئی ایسی ہستی ہو جو اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں کو نبی اور رسول بنا کر دنیا میں بھیجا، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سنائیں اور ان کو صحیح راستہ دکھائیں۔ ان انبیاء پر اللہ نے اپنی کتابیں بھی نازل فرمائیں۔

قرآن کریم کا لغوی معنی

لفظ قرآن عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ مصدر ہے اور قراءت کے مترادف ہے۔ قراءت کا معنی ہے ” پڑھنا۔ یعنی لفظ قرآن کا لغوی معنی ہوا” پڑھنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ﴾

            ترجمہ: بیشک اس کا محفوظ کرنا  اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔تو جب ہم اسے پڑھ چکیں   اُس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو

پھر لفظ قرآن معنی مصدری سے منتقل ہو کر ایسے کلام کا نام بن گیا جو کہ معجز ہے اور نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم)پر نازل شدہ ہے یعنی قرآن مجید کا نام بن گیا۔

اب قرآن کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود مفعول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اب قرآن کا ترجمہ پڑھنا نہیں کرتے بلکہ پڑھی جانے والی کتاب” یا ” پڑھی گئی کتاب” کرتے ہیں۔ اور مصدر کو مفعول کے معنی میں استعمال کرتا عربی زبان میں رائج ہے[1]۔

علامہ جلال الدین سیوطی الاتقان لفظ قرآن کی لغت کے حوالے سے مختلف اقوال بیان فرماتے ہیں۔

(1)  قرآن” لفظ “قرنت” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں “دو چیزوں کو آپس میں جوڑ دینا”۔ چونکہ قرآن میں سورتیں، آیات اور حروف ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں، اس لئے اس کا نام “قرآن” رکھا گیا۔

(2) امام فراء فرماتے ہیں کہ لفظ قرآن “قرائن” سے ماخوذ ہے کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں دوسری آیتوں کی تصدیقب کرتی ہیں اور بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ لغت میں قرائن کا مطلب ہوتا ہے: “ایسی باتیں جو کسی                            بات کی دلیل یا وضاحت بنیں”۔

            (3) لحیانی اور ایک گروہ کا قول ہے کہ قرآن، “قراءت” کا مصدر ہے، جیسے “غفران اور “رجحان مصدر ہیں۔ اس رائے کے مطابق قرآن اس چیز کا نام ہے جس کو پڑھا جاتا ہے، یعنی “مقروء” (جس کو پڑھا جائے)۔

(4)زجاج اور کچھ دوسرے علماء کہتے ہیں کہ قرآن “فعلان” کے وزن پر اسم صفت ہے اور یہ “قرء” (جمع کرنا) سے نکلا ہے۔ جیسے “قرأت الماء فی الحوض” یعنی  میں نے پانی کو حوض میں جمع کیا ۔ ان کے مطابق قرآن کو اس لئے قرآن کہا گیا کیونکہ اس میں سورتوں اور آیتوں کو جمع کیا گیا ہے[2]۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ لفظ قرآن کریم کے ماخذ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے اسے “قرنت” سے مشتق مانا، بعض علماء نے لفظ “قرائن” کو اس کا ماخذ قرار دیا ہے۔

بعض نے اسے “قراءت” یعنی پڑھنے کا مصدر قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے “قرء” (جمع کرنے) سے مشتق کہا ہے۔اور بعض علماء لفظ قرآن کو قراءت کے ہم معنی مانتے ہیں۔اور زیادہ صحیح قول یہی ہے۔اسی قول کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  نے بیان فرمایا ہے۔تفسیر کبیر میں ہے۔

“القُرْآنَ والقِراءَةَ واحِدٌ، كالخُسْرانِ والخَسارَةِ واحِدٌ، والدَّلِيلُ عَلَيْهِ قَوْلُهُ: ﴿فَإذا قَرَأْناهُ فاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ أيْ تِلاوَتَهُ، أيْ إذا تَلَوْناهُ عَلَيْكَ فاتَّبِعْ تِلاوَتَهُ.”[3]

ترجمہ: قرآن اور قراءت ایک ہی ہے جیسے خسران اور خسارہ ایک ہی  ہیں۔اور اس پر دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان﴿فَإذا قَرَأْناهُ فاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾

ترجمہ کنزالایمان:” تو جب ہم اسے پڑھ چکیں   اُس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو”

 یعنی اس کی تلاوت یعنی جب ہم اس کو آپ پر تلاوت کرتے ہیں تو آپ اس تلاوت کی اتباع کریں۔

قرآن کریم کی اصطلاحی تعریف

            الكلامُ المُعْجِزُ المُنَزَّلُ على النبيِّ، المَكْتُوبُ في المَصاحِفِ، المَنْقولُ بالتَّواتُرِ، المُتَعَبَّدُ بتِلاوَتِهِ[4]

ترجمہ:”وہ معجزاتی  کلام جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہوا ہے، تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، اور جس کی تلاوت سے عبادت کی جاتی ہے۔”

قرآن کریم کے اسماء

دنیا کے ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی نام ہوتا ہے جس سے وہ پہچانی جاتی ہے ۔قرآن مجید کا بھی ایک معروف نام تو القرآن ہے۔اس کے علاوہ خود قران پاک میں اس کتاب مبین کے کئی نام بیان کیے گئے ہیں۔کیونکہ قرآن کوئی عام کتاب نہیں بلکہ ہدایت، نصیحت، روشنی، شفاء اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ایسی مکمل رہنمائی ہے ،جو ہر انسان اور ہر زمانے کے لیے نازل ہوئی ہے۔

اس کے مختلف نام اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کے معنی، مفہوم اور اثرات بہت وسیع ہیں، جو ایک لفظ یا ایک نام میں سمیٹے نہیں جا سکتے۔ان ناموں سے قرآن کی عظمت اور رفعت ظاہر ہوتی ہے۔چند اسماء درج ذیل ہیں۔

“کتاب،قرآن،فرقان،ذکر،تذکیر،ذکری،تنزیل،حدیث،موعظۃ،الحکم،الحکمۃ،الحکیم،المحکم،شفاء،ھدی، ھادی،حبل،رحمت،روح،قصص،بیان،تبیان،مبین،بصائر،فصل،نجوم،مثانی،نعمۃ،برہان،بشیر،نذیر،قیّم، مھیمن،نور،حق،عزیز،کریم،عظیم،مبارک،صراط مستقیم “[5]

اس کے علاوہ علامہ جلال الدین سیوطی نے “البرہان فی علوم القرآن” کے حوالے سے قران پاک کے  55  نام بیان کیے ہیں۔[6]

“مناہل العرفان میں علامہ عبدالعظیم زرقانی لکھتے ہیں ۔کہ القران اور الفرقان کلام الہی کے یہ دونوں اسماء تمام ناموں میں سب سے زیادہ مشہور ہیں ۔بلکہ بعض مفسرین تو اس بات کے قائل ہیں کہ قران مجید کے باقی تمام اسماء میں یہ دو  نام اصل اور مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کے تمام اسماء مبارکہ اللہ تعالی کی دو صفات یعنی جلال اور جمال کی طرف راجع ہیں۔قرآن پاک ان کے دو ناموں کے علاوہ تین نام اور بھی ہیں۔

(1)الکتاب             (2)الذکر               (3) التنزیل

علماء کرام نے کتاب الہی کے متعدد اسماء بتائے ہیں صاحب البرہان نے قران مجید کے 55 سے بھی زائد اسماء بتائے ہیں اور صاحب التبیان کے مطابق بعض مفسرین نے تو 90 سے بھی زائد نام بتائے ہیں لیکن ان تمام علماء نے قران مجید کے جو اتنے زیادہ اسماء بتائے وہ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے نام اور وصف کے اندر امتیاز نہیں رکھا کسی بھی چیز کا ایک ذاتی نام ہوتا ہے اور ایک اس کا وصف ہوتا ہے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴾

ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے

اس آیت میں لفظ کریم وصف کے طور پر مستعمل ہے جبکہ قرآن نام کے طور پر۔ اس کی ایک اور مثال

﴿وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُؕ﴾

ترجمہ کنزالایمان: اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اُتارا  تو کیا تم اس کے منکر ہو

اس آیت میں لفظ مبارک وصف کے طور پر جبکہ ذکر نام کے طور مستعمل ہے۔ پس” قرآن ” اور “ذکر” کلام اللہ کے نام ہیں۔ جبکہ کریم اور مبارک وصف ہیں۔ قرآن مجید کے کون کون سے اسماء نام ہیں اور کون کون سے وصف ۔ یہ ایک آسان مسئلہ ہے لیکن اچھا خاصا طویل ہے”۔[7]

قرآن کریم کی خصوصیات

قرآن مجید میں متعدد ایسی خصوصیات ہیں جو گذشتہ آسمانی کتابوں سمیت دنیا کی کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی نہ پائی جاسکتی ہیں چند خصوصیات درج ذیل ہیں۔

پہلی خصوصیت : دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانیوالی کتاب

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں اور ہر نماز قرآن کی تلاوت ہی سے ادا ہو سکتی ہے اور چوبیس گھنٹوں میں سے ہر گھنٹے میں دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں پانچوں نمازیں بیک وقت پڑھی جا رہی ہیں۔چوبیس گھنٹوں میں ہر گھنٹے میں پوری روئے زمین پر ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی زبانیں﴿ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾[8]کے پڑھنے میں مگن ہوتی ہیں تو بلا مبالغہ دنیا کی کوئی کتاب اس قدر نہیں پڑھی جاسکتی جس قدر قرآن عملاً پڑھا جاتا ہے۔

دوسری خصوصیت : سب سے آسانی سے یاد ہوجانےوالی کتاب

دنیا کی کوئی کتاب زبانی یاد کرنے میں اتنی آسان نہیں جس قدر قرآن ہے  دس  یا  بارہ سال کے بچے بھی کثرت سے پورا قرآن با آسانی یاد کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآن﴾  [9]

ترجمہ  کنز الایمان: اور بےشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے

چنانچہ آج پوری روئے زمین پر جتنے حفاظ کرام ہیں ان کا شمار بھی ممکن نہیں۔اسی طرح ناظرہ پڑھنے والوں کی تعداد تو اربوں میں ہے۔کیونکہ ہر مسلمان ناظرہ قرآن تو پڑھتا ہے،سوائے چند لوگوں کے،قرآن کے علاوہ کسی کتاب کا جو حجم میں قرآن کریم کے برابر ہو ایک بھی حافظ نہیں ملے گا۔ اور اس میں آسان انداز میں فقہی مسائل بیان کیے گئے ہیں ۔

تیسری خصوصیت: دنیا کی سب سے زیادہ  پُر اثر کتاب

یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جو دلوں پر قرآن کی طرح اثر ڈالتی ہو۔ خاص طور پر وہ لوگ جو قرآن کا مطلب سمجھتے ہیں، ان کے دل پر اس کے الفاظ گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس کا ترجمہ نہیں بھی جانتے، ان پر بھی قرآن کی تلاوت کا اثر ضرور ہوتا ہے۔

جب قرآن نازل ہوا تو عرب لوگ اس کی زبان کی مٹھاس، سچائی اور گہرائی کو سن کر حیران رہ گئے۔ یہاں تک کہ دین کے سخت دشمن بھی قرآن کی آواز سن کر نرم پڑ گئے اور سچائی کو ماننے پر مجبور ہو گئے۔

چوتھی خصوصیت: قرآن کا چیلنج کہ اس جیسی کتاب لا کر دکھاؤ

قرآن کریم نے دنیا کے سب انسانوں اور جنّات کو یہ چیلنج دیا ہے۔ کہ اگر تمہیں شک ہے کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں ہے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھا دو۔

﴿ وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴾[10]

ترجمہ کنزالایمان:”اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے خاص بندے   پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ   اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو”

مگر حقیقت یہ ہے کہ آج تک کوئی بھی قرآن کی طرح کی ایک آیت بھی نہیں لا سکا۔ عرب کے بڑے بڑے شاعر اور فصیح لوگ جنہیں اپنی زبان پر بڑا ناز تھا، وہ بھی قرآن کے کلام کے سامنے عاجز آ گئے۔ انہوں نے کوشش کی مگر قرآن جیسی بات نہ کہہ سکے۔ قرآن کا یہ چیلنج قیامت تک باقی رہے گا کہ کوئی اس جیسا کلام نہیں لا سکتا۔

پانچویں خصوصیت : اگر قرآن پہاڑوں پر اُترتا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ۔ ﴿لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللہ﴾[11]

ترجمہ کنزالایمان: “اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے   تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے”

تفسیر خزائن العرفان میں ہے۔

“یعنی کتاب الہی کی عظمت و شان ایسی ہے کہ پہاڑ کو اگر ادراک ہوتا تو وہ باوجود اتنا سخت اور مضبوط ہونے کے پاش پاش ہوجاتا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّار کے دل کتنے سخت ہیں کہ ایسے باعظمت کلام سے اثر پذیر نہیں ہوتے[12]

 اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے قلب مبارک کو  پہلے اتنی قوت دی کہ اسے پہاڑوں سے بھی مضبوط تر کر دیا۔ تب اس پر قرآن اتار لہذا یہ آپ  کی نبوت کی اعلیٰ دلیل ہے۔

چھٹی خصوصیت : قرآن کی زبان صرف عربی ہے

قرآن کو اللہ تعالی نے محمد عربی کی پر اتارا۔ اور اس کے اول مخاطبین اہل عرب تھے اس لیے اسے عربی زبان میں اتارا گیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴾[13]

ترجمہ کنزالایمان:بےشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو

جس زمانہ  میں قرآن  کریم نازل ہوا، اس دور میں عرب فصاحت و بلاغت کے عروج  پر  تھے۔ ان کے ہاں شاعری اور خطابت ایک فن ہی نہیں بلکہ عزت و فخر کا ذریعہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی قوم میں اپنا آخری کلام نازل فرمایا، اور وہ بھی ایسی زبان میں جو اپنے بیان اور تاثیر میں دنیا کی سب زبانوں پر سبقت رکھتی تھی۔ یہ انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کا پیغام نہ صرف دل تک پہنچے بلکہ عقل کو بھی قائل کر دے۔

یہ زبان صرف معنی میں گہری نہیں بلکہ صوتی اعتبار سے بھی دل کو چھو لینے والی ہے۔ قرآن کی تلاوت میں حروف کا اتار چڑھاؤ، آیات کا وزن، اور جملوں کا ربط ایسا اثر پیدا کرتا ہے کہ سننے والا چاہے عربی نہ جانتا ہو، پھر بھی دل میں ایک انجانی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ یہ وہ تاثیر ہے جو کسی ترجمے میں پوری طرح منتقل نہیں ہو سکتی۔

قرآن کا عربی میں ہونا امتِ مسلمہ کے اتحاد کا بھی ذریعہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں، مسلمان ایک ہی زبان میں قرآن پڑھتے اور نماز ادا کرتے ہیں۔ لاکھوں غیر عرب مسلمان عربی نہ جانتے ہوئے بھی پورا قرآن حفظ کر لیتے ہیں، اور یہی چیز اس کے الفاظ کی حفاظت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اگر قرآن کسی بدلتی ہوئی زبان میں نازل ہوتا تو وقت کے ساتھ اس کے اصل الفاظ بدل جاتے، مگر عربی آج بھی اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔

مسئلہ:کسی دوسری زبان میں اگر اس کا ترجمہ کیا جائے تو وہ قرآن نہیں قرآن کا ترجمہ ہے۔ لہذا ہم اسے قرآن کا درجہ نہیں دے سکتے کہ اسے نماز میں تلاوت کی جگہ پڑھا جا سکے یا اس کے ہر حرف پر دس نیکیوں کے ثواب کا وہی تصور قائم کیا جائے جو عربی قرآن کی تلاوت سے متعلق ہے۔

ساتویں خصوصیت: قرآن قیامت تک کے لیے محفوظ کتاب ہے

دنیا کی ہر کتاب وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے، لیکن قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو شروع دن سے آج تک ایک لفظ بھی نہیں بدلا۔ اللہ نے خود قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)﴾[14]

ترجمہ کنزالایمان:”بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں”

 یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت قرآن کو بدل نہیں سکی، اور نہ ہی قیامت تک کوئی بدل سکے گی۔ قرآن جیسا آج ہے ویسا ہی قیامت تک رہے۔

تفسیر خزائن العرفان میں ہے۔

“کہ تحریف و تبدیل و زیادتی و کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔ تمام جن و انس اورساری خَلق کے مقدور میں نہیں ہے کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی کرے یا تغییر و تبدیل کرسکے اور چونکہ اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسّر نہیں ۔ یہ حفاظت کئی طرح  پر ہے ایک یہ کہ قرآنِ کریم کو معجِزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ، ایک یہ کہ اس کو معارضے اور مقابلہ سے محفوظ کیا کوئی اس کی مثل کلام بنانے  پر قادر نہ ہو ، ایک یہ کہ ساری خَلق کو اس کے نیست و نابود اور معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کُفّار باوجود کمال عداوت کے اس کتابِ مقدس کو معدوم کرنے سے عاجز  ہیں”

نزول قرآن  کے واقعہ

 قرآن کا نزول دو مراحل میں ہوا۔

(1) سب سے پہلے کتاب اللہ  لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا۔

            قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:

﴿إِنَّا أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ﴾ [15]

ترجمہ کنزالایمان”بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا۔”

اس نزول میں پورا قرآن ایک ہی وقت میں آسمانِ دنیا پر اُتارا گیا۔

(2) پھر  نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر حالات و واقعات کے مطابق تھوڑا تھوڑا کر کےنازل ہوتا رہا۔

بخاری شریف  میں پہلی وحی کے نزول کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

” حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی  دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق منکشف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔

 انہوں نے کہا ” اقرا ” یعنی  اے اللہ کے رسول پڑھئیے!

نبی کریم ﷺ  نے فرمایا “ما انا بقاری” یعنی میں پڑھنے والا نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا ” اقرا ” یعنی  اے اللہ کے رسول پڑھئیے!

میں نے پھر وہی جواب دیا “ما انا بقاری” یعنی میں پڑھنے والا نہیں ۔

اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ ” اقرا ” یعنی  اے اللہ کے رسول پڑھئیے!

             میں نے کہا “ما انا بقاری” یعنی میں پڑھنے والا نہیں

فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا ،پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا

﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ﴾

ترجمہ کنزالایمان:” پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا،آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا،پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا،آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا ۔”[16]

اس کے بعد تین سال تک وحی کا سلسلہ بند رہا ، نبی کریم فرماتے ہیں۔ کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔

﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، قُمْ فَأَنذِرْ ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ،وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾

ترجمہ کنزالایمان:”اے بالا پوش اوڑھنے والے ،کھڑے ہوجاؤ  پھر ڈر سناؤ ،اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو ،اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،اور بتوں سے دور رہو”اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔[17]


[1] زرقانی ،محمد عبدالعظیم،مناھل العرفان فی علوم القرآن،بیروت،دارالکتب العربی،1995ء،ج١،ص15،16

[2]  سیوطی،جلال الدین عبدالرحمن بن ابوبکر،الاتقان فی علوم القرآن،مرکز الدراسات القرآنیہ،ج1،ص146،147

[3] رازی، ابو عبداللہ محمد فخر الدین رازی ، تفسیر کبیر،بیروت، دارالفکر للطباعۃ والنشر والتواریخ،1981ء،ج2،ص16

[4] زرقانی ،محمد عبدالعظیم،مناھل العرفان فی علوم القرآن،بیروت،دارالکتب العربی،1995ء،ج١،ص21

[5] رازی، ابو عبداللہ محمد فخر الدین رازی ، تفسیر کبیر،بیروت، دارالفکر للطباعۃ والنشر والتواریخ،1981ء،ج2،ص15-20

[6] سیوطی،جلال الدین عبدالرحمن بن ابوبکر،الاتقان فی علوم القرآن،مرکز الدراسات القرآنیہ،ج1،ص143-147

[7] زرقانی ،محمد عبدالعظیم،مناھل العرفان فی علوم القرآن،بیروت،دارالکتب العربی،1995ء،ج١،ص17

[8] (فاتحہ:1،1)

[9] (قمر:54،17)

[10] (بقرہ:2،23)

[11] (حشر:59،21)

[12] صدرالفاضل،سید نعیم الدین مرادآبادی،تفسیر خزائن العرفان،کراچی،مکتبۃ المدینہ،2013،ص1013

[13] (یوسف:12،2)

[14] (حجر:15،9)

[15] صدرالفاضل،سید نعیم الدین مرادآبادی،تفسیر خزائن العرفان،ص490،491

[16] بخاری ،محمد بن اسماعیل بخاری ،صحیح بخاری،کتاب بدءالوحی،باب۔۔،رقم الحدیث3

[17] ایضا،رقم الحدیث4

 

1 thought on “قرآن کریم  کا تعارف اور اس کی خصوصیات”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top