Sirat ul Haq

Author name: muhammadqasim63645@gmail.com

قرآن مجید

قرآن کریم زندگی کی مکمل رہنمائی ہے؟

انسان اپنی زندگی گزارنے کے لیے مادی اور روحانی دونوں طرف کا محتاج ہے تو اللہ تعالی نے اس دنیا میں بھیجا اور زمین کو اس کے لیے فرش بنایا، آسمان کو چھت، دن کو روشنی اور رات کو آرام کا ذریعہ، پانی، ہوا، سورج، چاند، ستارے، سب کو اس کی خدمت میں لگا دیا۔ کچھ ضروریات مادی تھیں جیسے کھانا، پینا، لباس، رہائش،نفسانی خواہشات وغیرہ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حاصل کرنے کے ذرائع انسان کو عقل، بصیرت اور حواس کی صورت میں عطا کیے۔ لیکن انسان صرف مادی وجود نہیں رکھتا، اس کے اندر ایک لطیف جوہر بھی ہے جسے روح کہا جاتا ہے۔تو روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک ضابطہ حیات بھی عطا فرمایا تاکہ روح بھی سکون اور اطمینان میں رہے۔روح کی غذا اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی عبادت اور سب سے بڑھ کر وہ کتابِ ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے نازل فرمائی ،وہ عظیم کتاب قرآن کریم ہے۔ یہ کتاب نہ صرف قلب کو سکون دیتی ہے بلکہ انسان کی سوچ، فکر، عقیدہ، عمل، اخلاق، کردار، معاملات، اور زندگی کے ہر پہلو کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ کتاب براہِ راست خالقِ کائنات کا کلام ہے اور اس میں انسانیت کے لیے ہدایت کا ایک کامل و مکمل نظام موجود ہے۔ جہاں قرآن مجید میں غور و فکر کرنا،اور اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا  ایک عبادت ہے وہیں اس واضح اور روشن کتاب کو پڑھنا بھی ایک عبادت ہے۔اس کے ایک ایک حرف پر اللہ تعالیٰ دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ: (الم) حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ۔))[1] ترجمہ: “جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔” یہ فضیلت صرف پڑھنے کی ہے، اور اگر غور و تدبر کے ساتھ تلاوت کی جائے، تو اس کی برکتیں بے شمار ہیں۔ایک اور حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو قرآن کی فضیلت اس مثال کے ذریعے سمجھائی: ((قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِمْ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ[2])) ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو وہاں اسے تین بڑی، موٹی اونٹنیاں ملیں؟” صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: “تو تم میں سے کوئی اگر نماز میں تین آیتیں پڑھ لے، تو وہ ان تین موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔” اس طرح کے بے شمار ارشاداتِ نبوی ہمیں قرآن کی اہمیت، عظمت اور اس کی تلاوت کی فضیلت کو واضح کرتے ہیں۔ قرآن کے ساتھ تعلق جتنا گہرا ہو گا، زندگی اتنی ہی سنورتی چلی جائے گی۔ یہ کتاب قیامت کے دن شفاعت کرے گی، دلوں کو نور بخشے گی، انسان کے گناہوں کو مٹائے گی اور اسے اللہ کے قرب سے ہمکنار کرے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِه[3]ِ)) ترجمہ: “قرآن پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں شفاعت کرے گا۔” یہ وہ عظیم کتاب ہے جو جتنا پڑھی جائے، اُتنا ہی انسان کے دل کو جِلا بخشتی ہے، آنکھوں کو اشک بار کرتی ہے، روح کو لطافت عطا کرتی ہے، اور قلب کو یقین اور سکون سے بھر دیتی ہے۔یہ کتاب روشنی ہے جو اندھیروں میں راہ دکھاتی ہے، وہ نسخہ ہے جو دلوں کی بیماریوں کا علاج ہے، وہ کلام ہے جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے حق میں شفاعت کرے گا۔ جو شخص قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے، وہ لوگوں میں سب سے بہتر انسان ہے، اور جو شخص قرآن کو یاد کرے، اس کے درجات جنت میں اسی کے حفظ کے مطابق بلند کیے جائیں گے۔ قرآن صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ یہ ایمان، اخلاق، عبادات، معاملات، اور انسان کی پوری زندگی کا جامع دستور ہے، اور جو شخص اس سے جتنا قریب ہوتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں اتنی ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔ یہی قرآن ہے جو اہلِ ایمان کے لیے شفا ہے،اور جنت کا راستہ ہے۔ نزول قرآن کریم کا مقصد” ہدایت” جب ہم اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے اور یہ انسان اپنی عقل کی بناء پر ہر شے کو اپنے تصرف میں لارہا ہے۔ یوں انسان اس کائنات کا بادشاہ اور شہنشاہ دکھائی دیتا ہے۔ اتنی زیادہ قوت و طاقت کی بناء پر اس کے پھسلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان سے بچانے کے لئے انسان کو باری تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن عطا کیا ہے اور بلاشبہ انسان اور قرآن اس کائنات کی دو مسلمہ حقیقتیں ہیں اور ان دونوں میں سے قرآن نے انسان کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ انسان کیا ہے؟اب انسان کے لئے سب زیادہ ضروری ہے کہ قرآن کو پڑھے، سمجھے اور بار بار اس میں غوروفکر کرے تاکہ وہ اپنی انسانیت کی حقیقت کو سمجھ جائے اور قرآن کے نزول سے لے کر اس کے مقصد نزول  تک تمام چیزوں کو بخوبی جان لے اور دوسروں کو اس قرآن کی آفاقی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ کرے۔ انسان کو اللہ کی معرفت حاصل کرنے،اس کے احکامات کو سمجھنے،ان کے مطابق زندگی گزارنے،اور اللہ  کا نیک اور برگزیدہ بندہ بننے کے لئے قرآن سے بہتر کوئی چیز راہنمائی نہیں دے سکتی۔ اب ہم قرآن ہی سے سمجھتے  ہیں کہ یہ کب نازل ہوا؟  اس کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے؟  سورہ بقرہ میں  اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًۭى لِّلنَّاسِ

فقہی مسائل

نماز میں ٹخنے ننگے ہونا ضروری ہے؟ مکمل شرعی حکم

سوال: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھی جا رہی ہو تو شلوار بڑی ہو تو اوپر سے فولڈ کر لیں اور پینٹ ہے تو اسے نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کر لیں یا باہر کی طرف فولڈ کر لیں اگر ٹخنے ننگے نہ ہوں تو نماز نہیں ہو گی ؟کیا نماز میں ٹخنے ننگے نہ ہوں تو نماز نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدیث پیش کرتے ہیںصحیح بخاری حدیث نمبر 5787 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہو گابراہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں کہ نماز میں ٹخنے ننگے نہ ہو تو نماز ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟ جواب:اس سوال کا جواب ہم دو حصوں میں دیں گے پہلے حصے میں بتائیں گے کہ نماز میں کپڑا فولڈ کر کے نماز پڑھنے کا شرعی حکم اور دوسرے حصے میں اس حدیث سے پاک کا جواب دیں گے جو صحیح بخاری کی حدیث پیش کی جاتی ہے پہلا حصہ نماز کی حالت میں کپڑے فولڈ کر کے نماز پڑھنا شلوار ہے تو اس کو اوپر سے فولڈ کر لینا یا پینٹ ہے تو اسے نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کرنا یا باہر کی طرف فولڈ کر کے یا قمیص ہے تو اس کی استین کو کہنی تک چڑھا کر نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی نماز واجب الاعادہ ہو گی ( یعنی نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی) اس پر دلائلنبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : کہ ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بال یا کپڑا نہ سمیٹوں ۔صحیح بخاری حدیث نمبر 816 دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 حدیث نمبر 31 صفحہ نمبر 626 صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں ، مونھ اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں ۔صحیح بخاری حدیث نمبر 812 دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 حدیث نمبر 32 صفحہ نمبر 626 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں“ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1040 عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا“ سنن ابی داؤد حدیث نمبر 889 اس کے علاوہ سنن ابی داؤد حدیث نمبر 890 عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ترمذی شریف حدیث نمبر273 ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نماز میں کپڑا فولڈ نہیں کرنا چاہیے اب ہم چلتے ہیں فتاوی جات اور علماء کرام کے اقوال کی طرف اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ اپ سے سوال ہوا کہ استین کو کہنیوں تک چڑھا کر فولڈ کر کے نماز پڑھنا کیسا؟تو اپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ مکروہ ہے اور نماز دوبارہ پھیرے (یعنی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی) فتاوی رضویہ جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 310 مسئلہ نمبر 992 اور 993 اور علامہ  علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں(کرہ کفہ) ترجمہ: کپڑے کو لپیٹنا مکروہِ (تحریمی) ہے۔ درمختار مع ردالمحتار جلد 2 صفحہ 490 مطبوعہ  کوئٹہ    اِس کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں(حرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية) ترجمہ: جو علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہےوہ اِس فعل کے مکروہِ تحریمی ہونے کو ثابت کرتاہے۔ ردالمحتار مع درمختار جلد 2 صفحہ490 مطبوعہ  کوئٹہ اس کے علاوہ بہار شریعت میں ہے کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔ دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 مسئلہ نمبر 3 صفحہ نمبر 628 ان احادیث اور فتاوی جات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نماز میں کپڑا سمیٹنا مکروہ تحریمی شلوار کو اپ اوپر سے فولڈ کر لیں پینٹ کو نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کریں یا باہر کی طرف فولڈ کریں نماز مکروہ تحریمی ہے نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے دوسرا حصہ اور جو حدیث پیش کی جاتی ہے بخاری شریف کی حدیث نمبر 5787 تو اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کے تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہوگا اب سوال یہ ہے کہ جو ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا ہے وہ کس وجہ سے ہے اس کی وضاحت ہمیں حدیث مبارکہ سے ہی ملتی ہے صحیح بخاری حدیث نمبر 5784 احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“ اس کے علاوہ سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4085 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

قرآن مجید

قرآن کریم  کا تعارف اور اس کی خصوصیات

اس عظیم الشان کائنات کا وجود میں آنا اور اس میں موجود ہر چیز کا ایک منظم انداز میں چلنا،دن رات کا بدلنا،آسمانوں سے بارش کا برسنا،سورج اور چاند کا آنا جانا وغیرہ یہ محض ایک اتفاق نہی بلکہ ایک عظیم الشان ہستی کے وجود کا مظہر ہے اور اسی کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالی نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے۔ یہ کائنات، جس کی وسعتوں میں انسان حیرت زدہ ہے، اپنے ہر ذرّے سے خالقِ کائنات کی قدرت و عظمت کا پتہ دیتی ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ انسان کو ایک خاص مقصد کے تحت وجود بخشا کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اس کی عبادت کریے،اور اس کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق چلے۔اور اپنی زندگی کو اسی کے عطا کردہ ضابطہ حیات کے مطابق گزارے۔ لیکن انسان خود سے یہ سب کچھ نہیں جان سکتا تھا، اس لیے ضرورت تھی کہ کوئی ایسی ہستی ہو جو اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں کو نبی اور رسول بنا کر دنیا میں بھیجا، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سنائیں اور ان کو صحیح راستہ دکھائیں۔ ان انبیاء پر اللہ نے اپنی کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ قرآن کریم کا لغوی معنی لفظ قرآن عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ مصدر ہے اور قراءت کے مترادف ہے۔ قراءت کا معنی ہے ” پڑھنا۔ یعنی لفظ قرآن کا لغوی معنی ہوا” پڑھنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ ﴾             ترجمہ: بیشک اس کا محفوظ کرنا  اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔تو جب ہم اسے پڑھ چکیں   اُس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو پھر لفظ قرآن معنی مصدری سے منتقل ہو کر ایسے کلام کا نام بن گیا جو کہ معجز ہے اور نبی کریم(صلی اللہ علیہ وسلم)پر نازل شدہ ہے یعنی قرآن مجید کا نام بن گیا۔ اب قرآن کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود مفعول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اب قرآن کا ترجمہ پڑھنا نہیں کرتے بلکہ پڑھی جانے والی کتاب” یا ” پڑھی گئی کتاب” کرتے ہیں۔ اور مصدر کو مفعول کے معنی میں استعمال کرتا عربی زبان میں رائج ہے[1]۔ علامہ جلال الدین سیوطی الاتقان لفظ قرآن کی لغت کے حوالے سے مختلف اقوال بیان فرماتے ہیں۔ (1)  قرآن” لفظ “قرنت” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں “دو چیزوں کو آپس میں جوڑ دینا”۔ چونکہ قرآن میں سورتیں، آیات اور حروف ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں، اس لئے اس کا نام “قرآن” رکھا گیا۔ (2) امام فراء فرماتے ہیں کہ لفظ قرآن “قرائن” سے ماخوذ ہے کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں دوسری آیتوں کی تصدیقب کرتی ہیں اور بعض ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ لغت میں قرائن کا مطلب ہوتا ہے: “ایسی باتیں جو کسی                            بات کی دلیل یا وضاحت بنیں”۔             (3) لحیانی اور ایک گروہ کا قول ہے کہ قرآن، “قراءت” کا مصدر ہے، جیسے “غفران اور “رجحان مصدر ہیں۔ اس رائے کے مطابق قرآن اس چیز کا نام ہے جس کو پڑھا جاتا ہے، یعنی “مقروء” (جس کو پڑھا جائے)۔ (4)زجاج اور کچھ دوسرے علماء کہتے ہیں کہ قرآن “فعلان” کے وزن پر اسم صفت ہے اور یہ “قرء” (جمع کرنا) سے نکلا ہے۔ جیسے “قرأت الماء فی الحوض” یعنی  میں نے پانی کو حوض میں جمع کیا ۔ ان کے مطابق قرآن کو اس لئے قرآن کہا گیا کیونکہ اس میں سورتوں اور آیتوں کو جمع کیا گیا ہے[2]۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ لفظ قرآن کریم کے ماخذ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے اسے “قرنت” سے مشتق مانا، بعض علماء نے لفظ “قرائن” کو اس کا ماخذ قرار دیا ہے۔ بعض نے اسے “قراءت” یعنی پڑھنے کا مصدر قرار دیا ہے، اور بعض نے اسے “قرء” (جمع کرنے) سے مشتق کہا ہے۔اور بعض علماء لفظ قرآن کو قراءت کے ہم معنی مانتے ہیں۔اور زیادہ صحیح قول یہی ہے۔اسی قول کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما  نے بیان فرمایا ہے۔تفسیر کبیر میں ہے۔ “القُرْآنَ والقِراءَةَ واحِدٌ، كالخُسْرانِ والخَسارَةِ واحِدٌ، والدَّلِيلُ عَلَيْهِ قَوْلُهُ: ﴿فَإذا قَرَأْناهُ فاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ أيْ تِلاوَتَهُ، أيْ إذا تَلَوْناهُ عَلَيْكَ فاتَّبِعْ تِلاوَتَهُ.”[3] ترجمہ: قرآن اور قراءت ایک ہی ہے جیسے خسران اور خسارہ ایک ہی  ہیں۔اور اس پر دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان﴿فَإذا قَرَأْناهُ فاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ترجمہ کنزالایمان:” تو جب ہم اسے پڑھ چکیں   اُس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو”  یعنی اس کی تلاوت یعنی جب ہم اس کو آپ پر تلاوت کرتے ہیں تو آپ اس تلاوت کی اتباع کریں۔ قرآن کریم کی اصطلاحی تعریف             الكلامُ المُعْجِزُ المُنَزَّلُ على النبيِّ، المَكْتُوبُ في المَصاحِفِ، المَنْقولُ بالتَّواتُرِ، المُتَعَبَّدُ بتِلاوَتِهِ[4] ترجمہ:”وہ معجزاتی  کلام جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوا، مصاحف میں لکھا ہوا ہے، تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، اور جس کی تلاوت سے عبادت کی جاتی ہے۔” قرآن کریم کے اسماء دنیا کے ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی نام ہوتا ہے جس سے وہ پہچانی جاتی ہے ۔قرآن مجید کا بھی ایک معروف نام تو القرآن ہے۔اس کے علاوہ خود قران پاک میں اس کتاب مبین کے کئی نام بیان کیے گئے ہیں۔کیونکہ قرآن کوئی عام کتاب نہیں بلکہ ہدایت، نصیحت، روشنی، شفاء اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ایسی مکمل رہنمائی ہے ،جو ہر انسان اور ہر زمانے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس کے مختلف نام اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کے معنی، مفہوم اور اثرات بہت وسیع ہیں، جو ایک لفظ یا ایک نام میں سمیٹے نہیں جا سکتے۔ان ناموں سے قرآن کی عظمت اور رفعت ظاہر ہوتی ہے۔چند اسماء درج ذیل ہیں۔ “کتاب،قرآن،فرقان،ذکر،تذکیر،ذکری،تنزیل،حدیث،موعظۃ،الحکم،الحکمۃ،الحکیم،المحکم،شفاء،ھدی، ھادی،حبل،رحمت،روح،قصص،بیان،تبیان،مبین،بصائر،فصل،نجوم،مثانی،نعمۃ،برہان،بشیر،نذیر،قیّم، مھیمن،نور،حق،عزیز،کریم،عظیم،مبارک،صراط مستقیم “[5] اس کے علاوہ علامہ جلال الدین سیوطی نے “البرہان فی علوم القرآن” کے حوالے سے قران پاک کے  55  نام بیان کیے ہیں۔[6] “مناہل العرفان میں علامہ عبدالعظیم زرقانی لکھتے ہیں ۔کہ القران اور الفرقان کلام الہی کے یہ دونوں اسماء تمام ناموں میں سب سے زیادہ مشہور ہیں ۔بلکہ بعض مفسرین تو اس بات کے قائل ہیں کہ قران مجید کے باقی تمام اسماء میں یہ دو  نام اصل اور

فقہی مسائل

امامت کی کتنی شرائط ہیں اور کون کونسی ہیں ؟

سوال: امامت کی کتنی شرائط ہیں اور کون کونسی ہیں ؟ جواب :  امامت کی 6 شرائط ہیں جس شخص میں یہ تمام شرائط پائی جائیں وہ ہی امامت کر سکتا ہے اگر کسی کے اندر ایک بھی شرط نہ پائی گئی یعنی پانچ شرطیں اس میں موجود ہیں اور ایک شرط نہ پائی گئی تو وہ امامت نہیں کر سکتا چھ کی چھ شرطیں اس میں پایا جانا ضروری ہے تب ہی وہ امام بن سکتا ہے وہ چھ شرائط یہ ہیں الاسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الاعذار  مسلمان ہو بالغ ہو عاقل ہو مرد ہونا قرات صحیح ہوناشرعی معذور نہ ہونا جس میں یہ تمام شرائط پائی جائے وہ شخص امامت کر سکتا ہے بحوالہ: نورالایضاح مع مراقی الفلاح ، باب الامامۃ ،صفحہ نمبر 155 مکتبہ المدینہ العلمیہ دعوت اسلامی اس کے علاوہ بہار شریعت میں بھی امامت کی شرائط کو بیان کیا گیا ہےمرد غیرمعذور کے امام کے لیے چھ شرطیں ہیں اسلامبلاغ ہونا مرد ہونا قرأت معذور نہ ہو  بہار شریعت جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 565 والله اعلم ورسوله اعلم محمد شعیب رضا عطاری

فقہی مسائل

روزے کی حالت میں سرمہ ڈالنا کیسا ؟

روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟ کیا سرمہ لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ روزے کی حالت میں سرمہ لگانا کیسا ہے؟ (شرعی حکم) روزے کی حالت میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ عوام کے اندر جو یہ بات مشہور ہے کہ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے یا روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو یہ ان کی جہالت ہے۔ روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانے سے نہ روزہ مکروہ ہوتا ہے اور نہ ہی روزہ ٹوٹتا ہے بلکہ روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانا رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔ حضور علیہ السلام خود بھی آنکھوں میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے پر حدیث ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ سنن ابن ماجه حدیث نمبر 1678 روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی اجازت بلکہ سنن ترمذی شریف کے اندر حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی اجازت بھی عطا فرمائی ہے۔ انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: میری آنکھ آ گئی ہے، کیا میں سرمہ لگا لوں، میں روزے سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“ (لگا لو) سنن ترمذی حدیث نمبر 726 صحابہ کرام کا عمل ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کا بھی اس پر عمل تھا۔ عبیداللہ بن ابی بکر بن انس کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سرمہ لگاتے تھے اور روزے سے ہوتے تھے۔ سنن ابی داود حدیث نمبر 2378 تابعین کا عمل صرف صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ تابعین کرام بھی روزے کی حالت میں آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» (ایک قسم کا سرمہ ہے) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔ سنن ابی داود حدیث نمبر 2379 بہار شریعت میں روزے میں سرمہ لگانے کا حکم اس کے علاوہ بہار شریعت میں بھی اس مسئلے کو واضح کیا گیا ہے: روزے کی حالت میں آنکھوں میں سُرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا، اگرچہ سُرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (جوہرہ، ردالمحتار) بہار شریعت جلد 1 حصہ 5 صفحہ 988 ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انکھوں میں روزے کی حالت میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے کیونکہ نبی پاک علیہ السلام نے خود اجازت بھی دی ہے اور حضور علیہ السلام نے خود انکھوں میں سرمہ بھی لگایا ہے صحابہ کرام بھی روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگاتے تھے اور تابعین بھی روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگاتے تھے لہذا روزے کی حالت میں انکھوں میں سرمہ لگانا بالکل جائز ہے اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا واللہ اعلم ورسولہ اعلم محمد شعیب رضا عطاری  

Scroll to Top