
سوال: بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب نماز پڑھی جا رہی ہو تو شلوار بڑی ہو تو اوپر سے فولڈ کر لیں اور پینٹ ہے تو اسے نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کر لیں یا باہر کی طرف فولڈ کر لیں اگر ٹخنے ننگے نہ ہوں تو نماز نہیں ہو گی ؟
کیا نماز میں ٹخنے ننگے نہ ہوں تو نماز نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدیث پیش کرتے ہیں
صحیح بخاری حدیث نمبر 5787
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہو گا
براہ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں کہ نماز میں ٹخنے ننگے نہ ہو تو نماز ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟
جواب:
اس سوال کا جواب ہم دو حصوں میں دیں گے پہلے حصے میں بتائیں گے کہ نماز میں کپڑا فولڈ کر کے نماز پڑھنے کا شرعی حکم اور دوسرے حصے میں اس حدیث سے پاک کا جواب دیں گے جو صحیح بخاری کی حدیث پیش کی جاتی ہے
پہلا حصہ
نماز کی حالت میں کپڑے فولڈ کر کے نماز پڑھنا شلوار ہے تو اس کو اوپر سے فولڈ کر لینا یا پینٹ ہے تو اسے نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کرنا یا باہر کی طرف فولڈ کر کے یا قمیص ہے تو اس کی استین کو کہنی تک چڑھا کر نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی نماز واجب الاعادہ ہو گی ( یعنی نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی)
اس پر دلائل
نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : کہ ’’مجھے حکم ہوا ہے کہ سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بال یا کپڑا نہ سمیٹوں ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 816
دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 حدیث نمبر 31 صفحہ نمبر 626
صحیحین میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں ، مونھ اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ سمیٹوں ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 812
دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 حدیث نمبر 32 صفحہ نمبر 626
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں“
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1040
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے – اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا“
سنن ابی داؤد حدیث نمبر 889
اس کے علاوہ سنن ابی داؤد حدیث نمبر 890
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں
ترمذی شریف حدیث نمبر273
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نماز میں کپڑا فولڈ نہیں کرنا چاہیے اب ہم چلتے ہیں فتاوی جات اور علماء کرام کے اقوال کی طرف
اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمہ اپ سے سوال ہوا کہ استین کو کہنیوں تک چڑھا کر فولڈ کر کے نماز پڑھنا کیسا؟
تو اپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ مکروہ ہے اور نماز دوبارہ پھیرے (یعنی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی)
فتاوی رضویہ جلد نمبر 7 صفحہ نمبر 310 مسئلہ نمبر 992 اور 993
اور علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
(کرہ کفہ) ترجمہ: کپڑے کو لپیٹنا مکروہِ (تحریمی) ہے۔
درمختار مع ردالمحتار جلد 2 صفحہ 490 مطبوعہ کوئٹہ
اِس کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
(حرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية)
ترجمہ: جو علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہےوہ اِس فعل کے مکروہِ تحریمی ہونے کو ثابت کرتاہے۔
ردالمحتار مع درمختار جلد 2 صفحہ490 مطبوعہ کوئٹہ
اس کے علاوہ بہار شریعت میں ہے کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔
دعوت اسلامی اپلیکیشن بہار شریعت جلد نمبر 1 حصہ نمبر 3 مسئلہ نمبر 3 صفحہ نمبر 628
ان احادیث اور فتاوی جات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ نماز میں کپڑا سمیٹنا مکروہ تحریمی شلوار کو اپ اوپر سے فولڈ کر لیں پینٹ کو نیچے سے اندر کی طرف فولڈ کریں یا باہر کی طرف فولڈ کریں نماز مکروہ تحریمی ہے نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے
دوسرا حصہ
اور جو حدیث پیش کی جاتی ہے بخاری شریف کی حدیث نمبر 5787 تو اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کے تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہوگا اب سوال یہ ہے کہ جو ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا ہے وہ کس وجہ سے ہے
اس کی وضاحت ہمیں حدیث مبارکہ سے ہی ملتی ہے صحیح بخاری حدیث نمبر 5784
احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“
اس کے علاوہ سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4085
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی غرور اور تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا“ یہ سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں
اس کے علاوہ صحیح بخاری میں ایک اور حدیث پاک موجود ہے حدیث نمبر 3665 پڑھ لیں
اور سنن نسائی حدیث نمبر 5337
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنا کپڑا تکبر (گھمنڈ) سے گھسیٹے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کونا لٹک جاتا ہے، إلا اس کے کہ میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر (گھمنڈ) کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں
ان تمام احادیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جہاں پر یہ فرمایا گیا ہے کہ تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا یا اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا یا اس طرح کی دیگر باتیں جو حدیث میں ائی ہیں ان تمام سے مراد یہ ہے کہ جو تکبر کے ساتھ تہبند لٹکائے گا اور وہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا تو یہاں تکبر خاص ہے تکبر کی وجہ سے ہو تو پھر یہ ساری وعیدیں ہیں اگر تکبر نہ ہو تو پھر یہ وعید نہیں ہوگی کیونکہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضور سے خود پوچھا ہے یا رسول اللہ میں تکبر کی نیت سے نہیں کرتا تو میرے بارے کیا حکم ہے فرمایا تم اس میں داخل ہو نہیں ہو کیونکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں تکبر نہیں تھا تو جو تکبر سے کرے گا وہ اس میں داخل ہے
ہمارے معاشرے کے اندر پینٹ کا رجحان ہے جو عموما بڑی ہوتی ہے یا شلوار ہے جو درزی بڑی رکھ دیتے ہیں اور ان کو اگر کہا بھی جائے تو کبھی کبھار بڑی ہو جاتی ہے تو وہ ایک مجبوری کی وجہ سے یا عذر کی وجہ سے لیکن تکبر دل میں نہیں ہوتا لہذا کسی بھی شخص پر یہ وعید نہیں پیش کی جا سکتی کہ اپ کی طرف اللہ رحمت کی نظر نہیں کرے گا اور یہ حدیث سنا دی جائے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے خود پوچھا تھا تو حضور نے بتایا جو عذر ہے وہ معاف ہے جو تکبر ہے اس پر پکڑ ہے
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں تکبر سے محفوظ فرمائے آمین
والله اعلم ورسوله اعلم عزوجل وصلى الله عليه واله وسلم
محمد شعیب رضا عطاری